سیشن 1
چیک اِن
(1 min)
تمام شرکاء اور سہولت چَیک اِن کروائیں۔
Or six.zume.training/checkin and use code: 3354
دُعا کریں
(5 min)
دُعا کے ساتھ شروع کریں۔ روح القدس کے بغیر روحانی بصیرت اور تبدیلی ممکن نہیں۔ بطور اُس کو دعوت دینے کے لئے وقت نکالیں کہ اِس سیشن میں آپ کی راہنمائی کرے۔
جائزہ
(1 min)
اِس سیشن میں ہم اِن تصورات کو سُنیں گے اور تبادلہ خیال کریں گے:
- خُدا عام لوگوں کو اِستعمال کرتا ہے
- شاگرد اور کلیسیا کی سادہ تعریف
- رُوحانی سانس لینے کا مطلب ہے خُدا کا کلام سُننا اور عمل کرنا
READ
(5 min)
خُدا عام لوگوں کو اِستعمال کرتا ہے
خمیر کے لئے یونانی لفظ ہے۔ZUME
خداوند یسوع بتاتے ہیں کہ خدا کی بادشاہت اس عورت کی طرح ہے جس نے تھوڑا خمیر لے کر
بہت سارے آٹے میں ملا دیا۔جیسے ہی اس نے آمیزے میں خمیر ملایا تو پورا آٹا خمیر ہو گیا۔
خداوند یسوع ہمیں بتا رہے تھے کہ ایک عام آدمی ایک چھوٹی سی چیز کو لے کر ،بہت بڑا اثر بنانے کے لئے اس کا استعمال کر سکتا ہے۔ جوخداوند یسوع نے کہا ہےوہ کرن ہمارا خواب ہے ۔دنیا بھر میں عام لوگوں کی مدد کرنا،خدا کی بادشاہت میں اثر بنانے کے لئے چھوٹے آلات کا استعمال
یسوع کی آخری ہدایت ان کے شاگردوں کیلئے آسان تھی۔انہوں نے کہاجنت اور زمین کا سارا اختیار مجھے دیا گیا ہے۔اس لئےتم جاؤ ،سب ذات کے لوگوں کو شاگرد بناؤ ، انہیں باپ، اور بیٹے ،اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو اور اُنہیں سب باتیں ماننا سکھاؤ جو میں نے حکم کی ہیں ۔ تو شاگرد بنانے کے لئے ہمیں کیا کیا کرنا ہے ہم ہر وقت شاگرد بناتے ہیں۔ ہم جہاں کہیں اور جب بھی جاتے ہیں۔
- جب کوئی خداوند یسوع کے پیچھے چلنے کا فیصلہ لیتا ہے۔تو اسے بپتسمہ دینا چاہیئے۔
- جب وہ بڑھتے ہیں ۔تو ہمیں ہر شاگرد کو سکھاناچاہیئے کہ خداوند یسوع کے سبھی احکام کو کیسے ماننا ہےکیونکہ انہوں نے شاگرد بنانے کا ایک حکم دیا ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ خداوند یسوع کے پیچھے چلنے والے ہر شاگرد کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ شاگرد کیسے بنایا جائے۔ ان پیروکاروں کو کام کرنا ہے۔،
یہ خمیر کی طرح ہے۔جو سارے آٹے کو خمیر بنا دیتا ہے۔
- جب خداوند یسوع نے حکم دیا کہ جا کر شاگرد بناؤ ،تو انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا ہے۔
- خداوند یسوع نے کہا ہے۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا ۔دنیا کے خاتمے تک۔
- خداوند یسوع کے ہر پیروکار کواس وعدہ پر یقین کرنا چاہیئے کہ خداوند یسوع ہمشہ ہمارے ساتھ ہیں
کیونکہ وہ ساتھ ہیں ۔لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ خداوند کے ہر شاگرد کواس عنصر سے متعلق
سپرد ہونا چاہیئے کہ خداوند یسوع چاہتے ہیں کہ ہم شاگرد بنائیں ۔کیوں کہ وہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ جنت اور زمین کا سارا اختیار مجھے دیا گیا ہے۔ اس لئے جاؤ اور شاگرد بناؤ۔
جب خداوند یسوع ہمیں بھیجتے ہیں تب جس اختیار پر وہ یقین کرتے ہیں ۔وہ ان کا اختیار ہے۔
کسی بھی ریت میں اس سے بڑا اختیار نہیں ہے۔
کسی بھی تہذیب میں اس سے بڑا اختیار نہیں ہے۔
زمین پر کسی بھی قانون میں اس سے بڑا اختیار نہیں ہے۔
خداوند یسوع نے کہا ۔ جاؤ اور شاگرد بناؤ۔
ہم خمیر کی طرح مسلسل بڑھتے رہیںگے، جب تک کہ کام پورا نہ ہو۔
تبادلہ خیال کریں
(10 min)
- اگر یسوع چاہتا تھا کہ اُس کے سارے پیروکار ارشادِ پر عمل کریں، تو پھر بہت کم لوگ کیوں شاگرد بناتے پیں؟
READ
(5 min)
شاگرد اور کلیسیا
تربیت میں آپ کا استقبال ہے۔ZUME
اس تربیت / حصے میں ہم چرچ کے بارے میں بات کریں گے ۔
شاگرد بناتے کیسے ہیں؟
خداوند یسوع کے شاگرد کو آپ سبھی احکام کیسے ماننا سکھائیں گے ؟
آپ ایک ایسے شخص کو خدا کی بادشاہت کا شہری بننے کے قابل بناتے ہیں ۔جو دنیا کے رشتوں میں جی رہا تھا۔شاگرد لفظ کے معنی ہیں ۔ایک پیروکار۔تو ایک شاگرد خدا کا پیروکار ہوتا ہے۔خداوند یسوع نے کہا جنت اور زمین کا اختیار مجھے دیا گیا ہے۔تو خدا کی بادشاہت میں خداوند یسوع ہمارے بادشاہ ہیں ،ہم ان کے شہری ہیں ،اور ان کی مرضی سے مشروط ہیں ۔
ان کی مرضی ،مقصد ،نظریئے،ترجیحات اور قدریں سب سے اعلی ہیں ۔ان کا وعدہ قانون ہے۔
تو بادشاہت کا قانون کیا ہے؟خداوند یسوع اپنے شہریوں کو کیا کرنے کے لئے کہتے ہیں؟
خداوند یسوع نے کہا۔اپنے پورے دل،جان اور طاقت سے اپنے خداسے پیار کرنا۔
خداوند یسوع نے کہا اپنے پڑوسی سے مساوی پیار کرنا۔
خداوند یسوع نے کہا کہ عہد نامہ قدیم میں خداکے سارے قانون اور پیشنگوئی ان دو چیزوں پر مشتمل ہیں کہ خداسے پیار کرو۔
خداوند یسوع نے کہا۔شاگرد بناؤ۔
خداوند یسوع نے کہا کہ جو احکام میں دیئے ہیں انہیں وہ ماننا سکھاؤ۔
شاگرد بناتے وقت انہیں خداوند یسوع کے سبھی احکام کو سکھانا پڑتا ہے۔عہد نامہ جدیداس ایک چیز پر مشتمل ہے ،شاگرد بناؤ۔
ایک شاگرد خداوند یسوع کا ایک پیروکار ہے جو خداسے پیار کرتا ہے۔لوگوں سے پیار کرتا ہے اورشاگرد بناتا ہے
** توایک چرچ کیا ہے؟**
شاید آپ چرچ کو ایک عمارت سمجھتے ہیں۔ایک ایسی جگہ جہاں آپ جاتے ہیں ۔
لیکن خداکا وعدہ چرچ میں لوگوں کا جمع ہونا کہتا ہے۔ایسے لوگ جن میں آپ شامل ہیں ۔
- عالمگیر چرچ ۔سبھی لوگ جو خداوند یسوع کے شاگرد تھے،ہیں اور بنیں گے۔
- شہر یا علاقائی چرچ ۔سبھی لوگ جو خداوند یسوع کے شاگرد ہیں اور دنیا کے کسی بھی علاقے میں یا اس کے آس پاس رہتے ہیں ،
- گھر پر چرچ ۔جو خداوند یسوع کے شاگرد ہیں وہ سبھی لوگ وہاں ملتے ہیں جہاں ان کے بیچ ایک یا ایک سے زیادہ لوگ رہتے ہیں ۔
ایک روحانی خاندان۔خداوند یسوع کے شاگرد جو خدا سے پیار کرتے ہیں۔لوگوں سے پیار کرتے ہیں۔اور شاگرد بناتے ہیں اور جو بہتر اخلاق سے ملتے ہیں ،وہ یہ آخری چرچ ہے،گھر پر چرچ یا عام چرچ۔
جب ان عام چرچز / چرچوں کے شاگرد کچھ بڑا کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں ،تو وہ ساتھ مل کر ایک شہر یا علاقائی چرچ بنا سکتے ہیں ،یہ سبھی عام چرچ جو اس علاقے سے جڑے ہوتے ہیں۔ اور پوری تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں ،یہ سبھی مل کر عالمگیر چرچ بناتے ہیں ۔ اس چرچ کو انگریزی کے حرف ــــــــــــــــــــــ سے دکھاتے ہیں ۔
عام چرچ روحانی خاندان ہے،خداوند یسوع ان کے مرکز اور بادشاہ ہیں ۔
** عام چرچ روحانی خاندان ہیں جو خدا سے پیار کرتے ہیں** ،دوسروں سے پیار کرتے ہیں ،اور شاگرد بناتے ہیں ،جوبڑھاتے ہیں ۔کچھ چرچ کے پاس عمارتیں جلسے اورپیسہ اور اہلکارہیں۔
لیکن عام چرچ کو خدا سے پیار کرنے اور شاگرد بنانے،جو بڑھتے جاتے ہیں۔ان کی ضرورت نہیں ہے۔
کیونکہ اس کے علاوہ کوئی بھی چیز کسی چرچ کو اور زیادہ پیچیدہ بنادیتی ہے اور اس کا بڑھنا مشکل کردیتی ہے۔۔ہماری تربیت عمارتیں جلسے اور پیسہ اور اہلکارکو شہر یا علاقائی چرچ تک محدود رکھنا ہے جو کہ عام چرچ کے بڑھنے سے بنا ہے۔
ZUME یاد رکھیئے
zume کا مطلب ہے،خمیر،
ایک آسان اور صرف ایک گروہ جو کہ فوراً اپنے جیسا پیدا کرتا ہے۔
تربیت کے ساتھZUME
ہم اس خمیر کی طرح بن جائیں گے،جو آسان اور بڑھنے والا ہو
لیکن آیئے بڑھنے سے پہلے اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ خدا کیا پیدا کرنا چاہتا ہے۔کیونکہ اضافہ اچھی بات ہے۔لیکن ہمیشہ نہیں ہوتا۔
جیسے کیسز میں اضافہ جان لیوا ہے۔۔
تو ہم کیسے زندگی کو پیدا کرتے ہیں اور موت کو نہیں ؟
اور ہم کیسے طے کرتے ہیں کہ دوبارہ پیدا کرنے والے قابل شاگرد ہیں۔
تبادلہ خیال کریں
(10 min)
- جب آپ کلیسیا کا سوچتے ہیں تو ذہن میں کیا آتا ہے؟
- اِس تصویر میں اورویڈیو کے اُس بیان میں کیا فرق ہے جِس کو "سادہ کلیسیا" کہا گیا ہے؟
- آپ کے خیال میں بڑھوتری کے لئے کون سا آسان رہے گا اور کیوں؟
READ
(5 min)
خُدا کی آواز سُننا اور عمل کرنا
ہم اس اجلاس میں خدا سے سننے اور جو سنتے ہیں اسے کرنے کے بارے میں بات کریں گے۔
سانس لینا زندگی ہے۔ہم سانس اندر لیتے ہیں ۔ہم سانس باہر چھوڑتے ہیں ۔زندگی۔
سانس لینا خدا کی بادشاہت میں اتنا ہی اہم ہے
حقیقت میں خدا اپنی روح کوسانس کہتا ہے۔
خدا کی بادشاہت میں ،جب ہم خدا کی بات سنتے ہیں ،تو سانس اندر لیتے ہیں ۔
- ہم سانس اندر لیتے ہیں جب ہم ان کے وعدہ کے ذریعہ خدا کی بات سنتے ہیں۔انجیل۔
- ہم سانس اندر لیتے ہین جب اپنے جسم کے ذریعہ خدا کی بات سنتے ہیں۔۔ ان کے ساتھ ہماری بات چیت۔
- ہم سانس اندر لیتے ہیں جب ان کی جسم کے ذریعہ خدا کی بات سنتے ہیں ۔ چرچ،خداوند یسوع کے دیگر شاگرد۔
- ہم سانس اندر لیتے ہیں جب ان کے کاموں کے
ذریعہ خدا کی بات سنتے ہیں۔
حادثے، تجربے، تکلیف میں اپنے بچوں کو
گزرنے دیتے ہیں۔
خدا کی بادشاہت میں ہم سانس باہر چھوڑتے ہیں ، جب خدا کی بات پر عمل کرتے ہیں ۔ہم
سانس باہر چھوڑتے ہیں جب ہی مانتے ہیں۔
کبھی کبھی حکم ماننے کے لئے سانس باہر چھوڑنے کا مطلب ہے کہ
اپنے خیالوں ،اپنے لفظوں یا اپنے کامون کو بدلنا اور ان کی مرضی کے ساتھ میل میں
لانا، ۔
کبھی کبھی حکم ماننے کے لئے سانس باہر چھوڑنے کا مطلب ہے
اپنے سے بانٹنا جو خداوند یسوع نے ہمارے ساتھ بانٹا ہے اور ہمیں دیا ہے۔
تاکہ دوسرے بھی فضل پائیں ،جیسا کہ خدا ہمیں فضل دیتا ہے۔
خداوند یسوع کے ایک شاگرد کے لئے سانس کو اندر لینا اور باہر چھوڑنا اہم ہے۔
یہ ہماری زندگی ہے۔
خداوند یسوع نے کہا بیٹا اپنے آپ میں کچھ نہیں کر سکتا۔
جو وہ باپ کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے ،وہی کرتا ہے۔
جو کچھ باپ کرتا ہے وہی بیٹا بھی کرتا ہے۔
خداوند یسوع نے کہا میں اپنے اختیار سے بات نہیں کرتا۔
باپ جس نے مجھے بھیجا ہے وہی کہتا ہے۔۔
سانس اندر لینا ۔خدا کی بات سنانا۔
سانس باہر چھوڑنا،جو آپ سنتے ہیں اس کا حکم ماننا اور دوسروں کے ساتھ بانٹنا۔
خداوند یسوع نے کہا کہ ان کے شاگرد خدا کی باتیں سنیں گے ،
ان کے روح القدس کی مدد سے۔ان کی سانس جو ان کے شاگرد وں کو دی جائے گی۔
خداوند یسوع نے کہا ۔مددگار ۔روح القدس ،جسے باپ میرے نام سے بھیجیں گے
وہ ساری باتیں سکھائیں گي اور میری ساری باتیں یاد کرائیں گے۔۔
سانس اندر لینا۔خدا کی بات سننا۔
سانس باہر چھوڑنا۔جو آپ سنتے ہیں اس کا حکم ماننا اور دوسروں کے ساتھ بانٹنا۔
خداوند یسوع ہمیں دکھا رہے تھے کہ کیسے جیتے ہیں۔
تو ہم خدا کی آواز کو کیسے سنتے ہیں؟ہم کیسے جانیں گے کہ حکم کیسے ماننا ہے؟
خداوند یسوع نے اپنے آپ کو ،اچھا چرواہا ، کہا ہے۔
خداوند یسوع نے اپنے پیروکاروں کو اپنی بھیڑ کہا ہے۔
خداوند یسوع نے کہا ۔میری بھیڑ میری آواز سنتی ہے
اور میں انہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے چلتی ہے۔
خداوند یسوع نے کہا۔جو کوئی خدا کا ہے وہ خدا کی باتیں سنتا ہے۔ تم نہیں سنتے کیونکہ تم خدا کے نہیں ہو۔
خداوند یسوع ہمیں ان کے سننے کے لئے پابند ہونا چاہیے۔ ہم پر سکون رہ کر ان کی آواز کو سنتے ہیں ۔
خداوند یسوع پر خیال مرکوز کرنے کے ذریعہ ہم ان کی آواز کو سنتے ہیں ۔ ہر آواز ، ہر خیال ،ہر ملاحظہ ، جذبات یا اثر خدا کی آواز نہیں ہے۔ کبھی کبھی وہ دشمن کی آواز ہوتی ہے۔
خداوند یسوع نے کہا ہمارا دشمن جھوٹا ہے اور جھوٹ کا باپ ہے۔
خداوند یسوع نے کہا کہ وہ ہماری زندگی چرانے، دھوکا دینے اور نقصان کرنے کے لئے آتا ہے۔۔
لیکن خدا کہتا ہے کہ ہم اس کی آواز سنیں گے اور ہمیں پتہ ہوگاہ
کہ جب وہ ہم سے بات کرتا ہے۔
ریاضت اور دعا کے ذریعہ،ہم خدا کی آواز کو بہتر جان سکتے ہیں ۔
ہم وہ جاننا سیکھ سکتے ہیں جو ہم سنتے ہیں ۔خدا کی آواز ہے یا کوئی دوسری آواز۔
جو ہم سنتے ہیں اسے پرکھنے کے کچھ طریقے ہیں:
- ۔۔جو خداوند یسوع بولتے ہیں تب ان کی آواز ہمیشہ ان کے لکھے وعدوں ۔یعنی انجیل۔ کے ساتھ میل کھائے گی۔جسے پہلے ہی بتایا گیا ہے۔ ان کی بولی گئی آواز لکھی ہوئی آواز کی مخالفت میں کبھی نہیں ہوگی۔۔
- ۔۔جب خداوند یسوع بات کرتے ہیں ۔تب ان کی آوازہمارے دل کو امید اور سکون کا ایک احساس عطا کرے گی۔ اس کی آواز ہم پر الزام نہیں لگائے گی یا ہمیں ناامید نہیں کرے گی۔ خداوند یسوع الزام نہیں لگاتے ہیں ۔خداوند یسوع پیار میں سدھار کرتے ہیں ۔
- ۔۔خداوند یسوع کی آواز جسم کے کاموں کو نہیں دکھائے گی۔ جسم کی بدکاری اور ناپاکی ،زنا، بت پرستی اور جادو ،نفرت اور جھگڑا، حسد اور غصہ،فرقہ بندی اور عداوت، مے کشی اور رنگ رلیاں ۔یہ باتیں خدا کی آواز کی طرف سے نہیں ہیں۔
- ۔۔جب خداوند یسوع بولتے ہیں ۔تو ان کی آواز خدا کی روح کے پھل کو ظاہر کرے گی۔ پیار اور لطف اور رحم اور بھلائی،یقین کی قابلیت عاجزی اور روحانی تحمل۔
- ۔۔جب خداوند یسوع بولتے ہیں ۔تو ان کی آواز ہمیں خود اعتمادی دیتی ہے نا کہ شک۔
ہم اپنے اندر علم اور امن کا تجربہ کرتے ہیں کہ جو ہم سن رہے ہیں ،
وہ خدا کی طرف سے ہے۔شاید ہم ایک ہی بار میں سب کچھ نہ سن پائیں ۔
شاید ہم صرف ایک حصہ سن پائیں جو ہمیں جاننے کی ضرورت ہے۔
لیکن ہم سنتے ہیں وہ واضح ہوگا۔مبہم نہیں۔
خداوند یسوع کے ہر شاگرد کیلئے خوش خبری یہ ہے کہ جب ہم سانس اندر لیتے ہیں
اور خدا سے سنتے ہیں اور جب ہم سانس باہر چھوڑتے ہیں
اور جو ہم سنتے ہین اس کا حکم مانتے ہیں اوردوسروں کو بتاتے ہیں ۔
تب خدا اور بھی واضح طور پر بات کرے گا ۔
ان کا سانس ہم سے بھی زیادہ نکلے گا۔
تب ہم اور واضح طور پر ان کی آواز سن پائیں گے۔
ہم ان کی آوازپہچانیں گے نا کہ دوسروں کی۔
ہم دنیا میں ان کے کام کو دیکھیں گے اور ان کے ساتھ جڑ کر کام کر پائیں گے۔
تبادلہ خیال کریں
(10 min)
- خُدا کی آواز کو سُننا اور پہچاننا سیکھنا کیوں ضروری ہے؟
- کیا خُداوند کی آواز سُننا اور عمل کرنا بالکل سانس لینے جیسا ہی ہے؟ کیوں یا کیوں نہیں؟
جائزہ
(1 min)
اِس سیشن میں سُنے گئے تصورات:
- خُدا عام لوگوں کو اِستعمال کرتا ہے
- شاگرد اور کلیسیا کی سادہ تعریف
- رُوحانی سانس لینے کا مطلب ہے خُدا کا کلام سُننا اور عمل کرنا
NEXT STEP
عمل کریں
ایک دوست کے آگ یہ تعریفیں بیان کرنے کی مشق کریں ور خُداوند سےدُا کریں کہ وہ اِن کو آپ کے دِل اور روح میں گہرے طور پر ڈال دے۔ خُداوند سے پوچھیں کہ وہ کِس سے چاہتا ہے کہ آپ یہ اشتراک کریں۔
بیان کریں
یہ تعریفیں اُس کو بتائیں جِس کے بارے خُداوند فرماتا ہے کہ فلاں کو بتلاؤ۔ پھر اُن کو سکھائیں کہ وہ کسی اور کو بتائیں۔