concept

غیر ترتیب وار ترقی کی توقع رکھیں

یہ صفحہ شیئر کریں

جب لوگ شاگردوں کی بڑھوتری کے بارے میں سوچتے ہیں، تو وہ اکثر اِسے قدم بہ قدم عمل سمجھتے ہیں۔ کچھ اِس طرح: (1) پہلے دُعا۔ (2) پھر تیاری۔ (3) پھر خُدا کی خوشخبری بانٹنا۔ (4) پھر شاگرد بنانا۔ (5) پھر کلیسیائیں بنانا۔ (6) پھر راہنما تیار کرنا۔ (7) پھر افزائش۔

جب ہم اِس طرح سوچتے ہیں، تو بادشاہی کی بڑھوتری ایک آسان، سیدھا، اور ترتیب وار عمل محسوس ہوتی ہے۔

ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ اِس طرح کام نہیں کرتا۔ اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اکثر بہترین طور پر بھی یہ اِس طرح کام نہیں کرتا!

اگر ہم خُدا کی بادشاہی کو تیزی سے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں غیر ترتیبی بڑھوتری کی توقع رکھنی ہوگی بلکہ اُس کی حوصلہ افزائی بھی کرنی ہوگی۔

شاگرد بنانے کا یہ عمل ترتیب وار نہیں ہے۔ بہت سے لوگ اِسے ایک سیدھا اور مرحلہ وار عمل سمجھتے ہیں: دُعا، خوشخبری سے پہلے کی تیاری، خوشخبری سنانا، شاگردی، کلیسیا کی تشکیل، راہنماؤں کی نشوونما، اور افزائش۔ ضروری نہیں کہ یہ عمل اِسی طرح ہو۔ ایک زمانی خط کا تصور کریں جس میں پانچ نقطے ہوں: پیدائش (B)، وہ پہلی بار جب کوئی شخص خوشخبری سُنتا اور سمجھتا ہے (1)، جب کوئی مسیح کی پیروی کرنے کا انتخاب کرتا ہے (+)، جب وہ افزائش شروع کرتا ہے [جو کچھ سیکھتا ہے اُس پر عمل کرتا ہے اور اُسے دوسروں تک پہنچاتا ہے] (M)، اور موت۔ اِس صورت میں، ایک روحانی نسل کی لمبائی بنیادی طور پر نقطہ 1 سے نقطہ M تک کا وقت ہے۔ اگر ہم نئے ایمانداروں کی پیروی میں “بہت بڑی نعمت” جیسے طریقے کو استعمال کریں، جسے ہم پہلے دیکھ چکے ہیں، تو ہم اِسے کچھ اِس طرح بدل سکتے ہیں: اِس صورت میں بھی، ایک روحانی نسل کی لمبائی اب بھی نقطہ 1 سے نقطہ M تک کا وقت ہے۔ آپ نوٹ کریں گے کہ یہ وقت نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔ جب یہ اثر کئی نسلوں میں بڑھتا ہے، تو یہ بہت بڑا فرق پیدا کر سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لوگ مسیح کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے سے پہلے ہی افزائش کی مشق کر رہے ہوں۔ مثال کے طور پر، فرض کریں آپ کو کوئی ایسا شخص ملتا ہے جو روحانی باتوں میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن ابھی اپنی زندگی مسیح کے سپرد کرنے کے لئے تیار نہیں۔ تاہم، وہ اپنے کچھ دوستوں اور خاندان والوں کو بائبل سٹڈی کے لئے جمع کرنے پر آمادہ ہے۔ آپ اُسے یہ دکھا سکتے ہیں کہ یہ کیسے کرنا ہے اور دوسروں کو بھی یہی کام سکھانا کیسے ہے۔ ممکن ہے کہ پہلے شخص کے مسیح کی پیروی کا انتخاب کرنے سے پہلے ہی اُن کے پاس افزایشی گروہ اور تیار ہوتے ہوئے راہنما موجود ہوں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو نجات کی طرف شاگرد بنا سکتے ہیں، بجائے اِس کے کہ شاگردی کو صرف وہ چیز سمجھیں جو کسی شخص کے مسیح کی پیروی کا انتخاب کرنے کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ اِسے شاید اِس زمانی خط سے ظاہر کیا جا سکے: اِس صورت میں، وقت کے ساتھ ساتھ (کئی نسلوں کے بعد) ایک روحانی نسل کی لمبائی نقطہ 1 سے نقطہ M تک کے وقت کے قریب آنا شروع کر سکتی ہے۔ بعض حالات میں، جہاں لوگ فوراً خوشخبری سُننے کے قابل یا تیار نہیں ہوتے، وہاں بھی کمیونٹی کی ترقی جیسے دوسرے مسائل پر افزایشی نمونوں کی تعلیم دے کر ایسا ہی اثر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ پھر جب موقع میسر آئے، اُس نیٹ ورک کو خوشخبری سے روشناس کرایا جا سکتا ہے۔ یہ کچھ اِس طرح دکھائی دے سکتا ہے: تو ایک لحاظ سے، شاگردوں کی افزائش میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جلدی سے یہ معلوم کیا جائے کہ اچھی زمین کون ہے۔ کون ایسا شخص ہوگا جو جو کچھ سیکھتا ہے اُس پر دیانت داری سے عمل کرے اور اُسے دوسروں تک پہنچائے؟ ایسے لوگ وقت، توانائی، اور محنت لگا کر تیار کرنے کے لائق ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ آپ کو رہنمائی اور شاگردی کے تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔ جب آپ اپنے موجودہ تعلقاتی نیٹ ورک سے باہر کے لوگوں میں کام کر رہے ہوں، تو اِس قسم کے افراد کو چھانٹنا نہایت ضروری ہے۔ ایسے لوگ نئی جغرافیائی جگہوں، آبادی کے نئے حصّوں، اور تعلقات کے نئے نیٹ ورکس میں بادشاہی کے پھیلاؤ کے لئے نہایت اہم ہیں۔

خُود سے پوچھیں

  • کیا آپ نے کبھی کسی نئے ایماندار کو تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟
    • ہم ایسی کون سی باتیں کرتے ہیں جو جان بوجھ کر یا انجانے میں اِس عمل کو حقیقت میں سست یا بند کر دیتی ہیں؟

آج ہی Zúme Training شروع کریں

یہ مکمل طور پر مفت ہے، اور آپ کبھی بھی شروع کر سکتے ہیں—جہاں بھی ہوں، اپنی رفتار سے آگے بڑھیں۔

مُفت رجسٹر کریں